اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا تعارف اور اے آئی کے 5 خطرناک فراڈ

اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا تعارف

اے آئی یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس جسے اردو میں مصنوعی ذہانت کہا جاتا ہے، دراصل جدید ٹیکنالوجی کی وہ شکل ہے جس کے ذریعے کمپیوٹر اور مشینیں انسانی ذہانت کی نقل کرتے ہوئے فیصلے کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کیا ہے؟ اس سوال کا سادہ جواب یہ ہے کہ یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو ڈیٹا اور الگورتھمز کی مدد سے خودکار طریقے سے کام کرتی ہے اور وقت کے ساتھ بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ انسانوں نے انسانی دماغ پر بہت زیادہ تحقیقات کرلیں کہ وہ کیسے کام کرتا ہے؟ اور اُسی جیسا ایک دماغ بنانے کی کوشش میں ہیں ۔ یہ مصنوعی ذہانت ایک ایسی ہی چیز ہے جو آپکے دماغ کی طرح کام کرتی ہے اور خود بخود چیزوں کو سیکھتی ہے۔ آج کے دور میں اے آئی ٹیکنالوجی کے فائدے تقریباً ہر شعبے میں دیکھے جا سکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے نقصانات بھی اتنے ہی اہم ہیں جن پر بات کرنا اور آگہی دینا ضروری ہے۔

اگر مصنوعی ذہانت کے فوائد پر غور کیا جائے تو سب سے پہلے کاروبار اور صنعت کا شعبہ سامنے آتا ہے۔ کاروبار میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال سے کمپنیاں اپنی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہیں، ڈیٹا کا درست تجزیہ کر سکتی ہیں اور وقت و وسائل کی بچت ممکن ہو جاتی ہے۔ اے آئی کے استعمالات میں خودکار نظام، کسٹمر سپورٹ چیٹ بوٹس، ڈیٹا اینالیسس اور مارکیٹنگ اسٹریٹجی شامل ہیں۔ اسی طرح تعلیم میں مصنوعی ذہانت نے سیکھنے کے روایتی طریقوں کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ اسٹوڈنٹس کے لیے ذاتی نوعیت کے تعلیمی نظام، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز اور خودکار اسیسمنٹ سسٹمز اے آئی ٹیکنالوجی کے فائدے کی واضح مثالیں ہیں۔ بہت سارے اسٹوڈنٹس جو پہلے کئی کئی کتابیں پڑھ کر ایک مضمون لکھا کرتے تھے اب وہ اے آئی ٹول کی مدد سے بہت فائدل حاصل کررہے ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی اے آئی کے مثبت اثرات دیکھے جا رہے ہیں، جہاں بیماریوں کی تشخیص، میڈیکل رپورٹس کا تجزیہ اور علاج کے جدید طریقے متعارف ہو رہے ہیں۔

تاہم جہاں مصنوعی ذہانت انسان کے لیے فائدہ مند ہے، وہیں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اے آئی انسانوں کی جگہ لے لے گی؟ اور یہ بھی سوال ہوتا ہے کہ اسکے نقصانات کیا کیا ہیں؟ سب سے بڑا خدشہ روزگار پر اثرات کا ہے، کیونکہ خودکار مشینیں اور اے آئی سسٹمز بہت سے روایتی کاموں کی جگہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیٹا پرائیویسی اور سیکیورٹی بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، کیونکہ اے آئی سسٹمز بڑی مقدار میں ذاتی معلومات استعمال کرتے ہیں۔ اگر ان معلومات کا غلط استعمال ہو تو یہ افراد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے اخلاقی مسائل بھی اب ایک اہم بحث بن چکے ہیں۔ یعنی لوگ اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں کرنے کے لئے بھی اسکا استعمال کررہے ہیں مثلاً غلط پوسٹیں بنانا، جعلی ویڈیوز بنانا اور نقلی آڈیوز بنا کر لوگوں کو گمراہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔

مصنوعی ذہانت کے نقصانات سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب  ہے کہ عوام میں بروقت آگاہی کو عام کیا جائے۔ عام لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اے آئی کے مثبت اور منفی پہلو دونوں کو سمجھیں اور ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات حاصل کرتے رہیں ۔ جدید ٹیکنالوجی کے خطرات کو نظرانداز کرنا مستقبل میں بڑے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ اسی لیے ذمہ دارانہ اے آئی کا استعمال، مضبوط قوانین، اور اخلاقی اصولوں کی پابندی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ نوجوانوں کے لیے اے آئی کے فائدے اور خطرات کو سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کو سیکھنے اور استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ نقصانات سے بھی باخبر رہیں۔

یاد رکھیں! مصنوعی ذہانت نہ مکمل طور پر اچھی ہے اور نہ ہی مکمل طور پر بری، بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کا استعمال اگر درست سمت میں ہو تو یہ ترقی، آسانی اور جدت کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر لاپرواہی اور غلط نیت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ خطرناک نتائج بھی پیدا کر سکتا ہے۔

اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی تیز رفتار ترقی

مصنوعی ذہانت یا اے آئی ایک ایسی ترقی پذیر ٹیکنالوجی ہے جو مسلسل ارتقا کے مراحل سے گزر رہی ہے اور جس کا دائرہ وقت کے ساتھ غیر معمولی حد تک وسیع ہو چکا ہے۔ چند سال پہلے تک آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا تصور محدود نوعیت کا تھا اور عام لوگوں کے لیے یہ صرف ایک تجرباتی چیز سمجھی جاتی تھی، مگر آج صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ مصنوعی ذہانت کیا ہے، اس سوال کا جواب اب صرف سافٹ ویئر یا کمپیوٹر پروگرام تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسی طاقتور ٹیکنالوجی بن چکی ہے جو انسانی حواس جیسے دیکھنے، سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کی نقل کر رہی ہے۔ خاص طور پر تصاویر، آواز اور ویڈیوز کے میدان میں اے آئی کی ترقی نے نئے مواقع کے ساتھ ساتھ سنگین خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔

ابتدائی دور میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی جانے والی تصاویر اس قدر غیر حقیقی ہوتی تھیں کہ ایک عام آدمی بھی فوراً پہچان لیتا تھا کہ یہ نقلی تصویر ہے۔ رنگ، ساخت اور انسانی تاثرات اتنے غیر فطری ہوتے تھے کہ اصل اور نقل میں فرق کرنا آسان تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ اے آئی ٹیکنالوجی کے فائدے اور اس کی سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ جدید الگورتھمز اور بڑے ڈیٹا سیٹس کی مدد سے مصنوعی ذہانت نے اس حد تک ترقی کی کہ اب بنائی جانے والی تصاویر حقیقت سے بہت قریب نظر آتی ہیں۔ آج یہ کہنا مشکل ہو گیا ہے کہ کون سی تصویر اصل ہے اور کون سی مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے مثبت اور منفی پہلو دونوں واضح ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

تصاویر کے بعد مصنوعی ذہانت نے آواز کے میدان میں بھی نمایاں پیش رفت کی۔ اب اے آئی کے استعمالات میں وائس کلوننگ (ہوبہو نقلی آواز)ایک اہم مثال بن چکی ہے۔ اگر کسی شخص کی چند سیکنڈ کی آواز بھی مصنوعی ذہانت کو فراہم کر دی جائے تو یہ اس کے لہجے، ٹون اور اندازِ گفتگو کو سیکھ کر بالکل اسی طرح کی آواز تیار کر سکتی ہے۔
تیسرا اور سب سے حساس مرحلہ ویڈیوز کا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اب اے آئی کی مدد سے ایسی ویڈیوز بنانا ممکن ہو چکا ہے جن میں کسی بھی شخصیت، ادارے یا منظر کو اس انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے کہ عام آدمی قطعاً نہیں سمجھ پائے گا کہ یہ غیر حقیقی اور جعلی ویڈیو ہے۔ ان ویڈیوز کو عام طور پر ڈیپ فیک ویڈیوز کہا جاتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کا یہ استعمال اگر مثبت مقاصدجیسے تعلیم یا تربیت کے لیے ہو تو فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، مگر اگر اسے غلط طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ سماجی انتشار، کردار کشی اور اعتماد کے بحران  جیسے سنگین مسائل پیدا کرسکتا ہے۔لوگوں کا اعتماد بری طرح مجروح ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت انسان کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ، یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

ان تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے اس بات کی اہمیت بھی واضح ہورہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں آگہی اور شعور پھیلانا کیوں ضروری ہے، اس کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ عام لوگوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے اے آئی کے فائدے اور خطرات کو سمجھنا بے حد ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں بلکہ اس کے ممکنہ نقصانات سے بھی خود کو محفوظ رکھ سکیں۔

مصنوعی ذہانت کے دھوکے سے بچنے کے لئے کیا چیز ضروری ہے؟

تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز وہ بنیادی ذرائع ہیں جن پر آج کی ڈیجیٹل دنیا اور انٹرنیٹ کا بڑا حصہ کھڑا ہوا ہے۔ خبروں سے لے کر سوشل میڈیا، تعلیم، مذہبی بیانات، سیاسی تقاریر اور عوامی معلومات تک، انہی تین چیزوں کے ذریعے لوگ سچ اور حقیقت  کو جانتے ہیں اورانہی کے ذریعے معلومات حاصل کرتے ہیں ۔ ماضی میں ان ذرائع پر ایک حد تک اعتماد کیا جاتا تھا، کیونکہ عام طور پر تصویر، آواز یا ویڈیو کو دیکھ کر یہ اندازہ ہو جاتا تھا کہ یہ اصل ہے یا جعلی۔ مگر مصنوعی ذہانت اور اے آئی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے اس توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نقلی تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز اس قدر تیزی اور مہارت سے بن رہی ہیں کہ اصل اور نقل میں فرق کرنا عام آدمی کے لیے تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔خاص طور پر وہ لوگ جو اے آئی ٹیکنالوجی سے نابلد ہیں یا ڈیجیٹل آگہی نہیں رکھتے، مختلف قسم کے فراڈ اور دھوکہ دہی کا آسان شکار بن رہے ہیں۔ جعلی ویڈیوز کے ذریعے لوگوں سے پیسے بٹورنا، جعلی آڈیوز کے ذریعے فون کال فراڈ کرنا، اور تصاویر کے ذریعے غلط خبریں پھیلانا اب ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

ایک بڑا خطرہ سیاسی اور سماجی سطح پر سامنے آ رہا ہے۔ اگر کسی ویڈیو میں یہ دکھایا جائے کہ صدرِ پاکستان یا کوئی بڑی سیاسی شخصیت کوئی خاص بیان دے رہی ہے یا کوئی حساس فیصلہ کر رہی ہے، تو عام شہری فوری طور پر اس پر یقین کر لیتا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہو سکتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کا ایسا غلط استعمال عوام کو گمراہ کرنے کا ایک عام طریقہ بنتا جارہا ہے ۔ اس لئے مصنوعی ذہانت اب ایک سنجیدہ صورتحال بنتی جارہی ہے۔اسی طرح مذہبی اور سماجی شخصیات کے حوالے سے بھی جعلی مواد کا پھیلاؤ ایک تشویشناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر حالیہ عرصے میں ایک معروف دینی شخصیت، حضرت مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی رحمہ اللہ تعالیٰ، سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جسے بہت سے لوگوں نے حقیقی سمجھ کر دیکھا اور آگے شیئر کیا۔ بعد میں یہ بات واضح ہوئی کہ وہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی تھی اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے خطرات کس حد تک بڑھ چکے ہیں۔ دیکھنے والے لاعلمی میں جذباتی طور پر ردِعمل دیتے ہیں، جبکہ بنانے اور پھیلانے والے اس سے پیسے کماتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے نقصانات سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ اس کا سب سے مؤثر حل وہی ہے جو اوپر بھی بتایا گیا ہے کہ عوام میں شعور اور آگاہی کو عام کیا جائے۔ اُنکو اس ٹیکنالوجی سے متعلق مسلسل بتایا جائے۔ ڈیجیٹل آگہی کے بغیر کوئی بھی فرد آج کے دور میں محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ضروری ہے کہ لوگ یہ سیکھیں کہ کسی بھی ویڈیو، تصویر یا آڈیو کو فوراً سچ نہ مانیں، بلکہ اس کے ماخذ، سیاق و سباق اور تصدیق پر توجہ دیں۔ نوجوانوں کے لیے اے آئی کے فائدے اور خطرات دونوں کو سمجھنا خاص طور پر ضروری ہے، کیونکہ وہ سوشل میڈیا کے سب سے زیادہ استعمال کرنے والےہیں۔بس یہ یاد رکھیں کہ تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز کی اہمیت آج بھی برقرار ہے مگر ان پر اندھا اعتماد اب پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے کیسے فراڈ ہورہاہے؟

مصنوعی ذہانت سے ہونے والے فراڈز میں سب سے عام اور خطرناک طریقہ جعلی تصویروں کا استعمال بن چکا ہے۔ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں تصویر انسان کے لیے اعتماد کی سب سے بڑی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر سامنے کسی اپنے عزیز یا جاننے والے کی تصویر موجود ہے تو بات سچ ہی ہوگی، مگر اے آئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے فراڈ اور دھوکے باز لوگوں نے اسی اعتماد کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے اب کسی بھی شخص کی تصویر بنانا ممکن ہو چکا ہے، چاہے وہ تصویر اس شخص نے کبھی لی ہی نہ ہویعنی اگر آپکی تصویر ایک مرتبہ اے آئی کو دکھا دی گئی تو پھر وہ اسکی نقل تیار کرسکتا ہے جس میں آپکو جرمنی، فرانس یا کسی بھی منظر میں سیٹ کرکے دکھا سکتا ہے۔ اور یہ تصویر حقیقت کے انتہائی قریب ہوگی، گہری نظر سے دیکھے بغیر معلوم نہ ہوسکے گا کہ یہ جعلی ہے۔

اس قسم کے فراڈ میں سب سے پہلے فراڈ کرنے والا شخص کسی عام آدمی کی چند تصاویر یا سوشل میڈیا ڈیٹا حاصل کرتا ہے۔ اس کے بعد آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے نئی اور متاثر کن تصاویر تیار کی جاتی ہیں، جن میں وہ شخص کسی غیر ملکی جگہ پر یا کسی اہم جگہ پر کھڑا ہوا نظر آتاہے۔یہاں اصل مسئلہ صرف تصویر کا نہیں بلکہ نفسیاتی حربوں کا بھی ہے۔ فراڈیے عام طور پر گفتگو کا آغاز اس انداز میں کرتے ہیں کہ سامنے والا فوراً اعتماد میں آ جائے۔ مثال کے طور پر ایک جعلی اکاؤنٹ ہوگا اور وہ آپکو کسی رشتہ دار کی تصویر دکھائے گا اور ساتھ ہی یہ بھی کہے گا کہ “یہ میرا ذاتی اکاؤنٹ ہے، اس کے بارے میں کسی کو نہ بتانا” یا “میں صرف تم پر اعتماد کر رہا ہوں” جیسے جملے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس طرح کا رویہ سامنے والے شخص کے ذہن میں شک کی بجائے اعتماد پیدا کرےگا۔ پھر وہ اے آئی سے مزید تصویریں بنوا کر آپکو بھیجے گا جس سے آپکو یقین ہوجائے گکہ یہ میرا رشتہ دار ہی ہے۔ اور جب یقین ہوگیا تو پھر اب وہ مختلف طریقوں سے پیسے نکلوانے کی کوشش کرےگا۔ کبھی ایمرجنسی، کبھی کاروباری مسئلہ  یا کوئی بھی قانونی رکاوٹ کا بہانہ بنا کر آپکو قائل کرلیگا۔بزرگ افراد، کم تعلیم یافتہ صارفین اور وہ لوگ جو سوشل میڈیا پر اکثر جذبات میں بہہ جاتے ہیں وہ لوگ خاص طور پر اس طرح کے فراڈ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ان کے لیے تصویر، نام اور اندازِ گفتگو ہی کافی ثبوت ہوتا ہے جس سے وہ اندھا اعتماد کرلیتےہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ سب کچھ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہوتا ہے۔

تصویری فراڈ صرف  پیسوں کے فراڈ تک محدود نہیں بلکہ خاندانی تعلقات میں بھی خطرات پیدا کرسکتا ہے مثلاً کچھ لڑکیوں کی نازیبا تصاویر اے آئی سے بنوا کر اُنکو بلیک میل کرنا اور اُنکو خاندان میں بدنام کرنا بھی ایک خطرناک چیز ہے جو اے آئی کی مدد سےکی جارہی ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک خطرناک رجحان کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ یاد رکھیں کسی بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ، تصویر یا پیغام پر فوری اعتماد کرنے کی بجائے تصدیق ضروری ہے۔ اگر کوئی قریبی عزیز اچانک پیسوں کا مطالبہ کرے تو براہِ راست فون کال، ویڈیو کال یا کسی دوسرے مستند ذریعے سے تصدیق کرنا چاہیے۔ نوجوانوں کے لیے اے آئی کے فائدے اور خطرات کو سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ نہ صرف خود محفوظ رہیں بلکہ دوسروں کو بھی آگاہ کر سکیں۔

اے آئی (مصنوعی ذہانت ) کا انتہائی خطرناک استعمال

مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہونے والے فراڈز میں دوسرا بڑا اور نہایت خطرناک طریقہ آواز اور ویڈیو کا فراڈ ہے، جو بظاہر بہت زیادہ پیشہ ورانہ اور حقیقت کے قریب ہوتا ہے۔ آج کی دنیا میں لوگ فون کال، ویڈیو پیغام یا آواز سن کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ سامنے والا واقعی وہی ادارہ یا شخصیت ہے جس کا وہ بتارہا ہے۔ اب آرٹیفیشل انٹیجنس کی مدد سے ایسی آوازیں تیار کی جا رہی ہیں جو بالکل کسی اصل انسان، بینک افسر یا معروف شخصیت جیسی محسوس ہوتی ہیں، اور سننے والے کو ذرا برابر بھی شک نہیں ہوتا۔

اس فراڈ کی ایک عام مثال بینکنگ سے متعلق جعلی فون کالز ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی آواز میں نہ صرف لہجہ، بلکہ الفاظ کا انتخاب، پروفیشنل اندازِ گفتگو اور اعتماد دلانے والا رویہ بھی شامل ہوتا ہے۔ کال کرنے والا خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ میں کوئی مسئلہ ہے، سیکیورٹی اپڈیٹ درکار ہے یا مشکوک سرگرمی دیکھی گئی ہے۔ چونکہ آواز مکمل طور پر حقیقی لگتی ہے، اس لیے عام آدمی یہ نہیں سوچتا کہ یہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہو سکتی ہے۔

صرف آواز ہی نہیں بلکہ ویڈیو کے ذریعے بھی یہی فراڈ مزید مضبوط بنایا جاتا ہے۔ بعض اوقات جعلی کال کے بعد ایک ویڈیو بھیجی جاتی ہے جس میں کسی معروف بینک کا مونوگرام، لوگو یا برانڈنگ استعمال کی گئی ہوتی ہے۔ یہ ویڈیو بظاہر اتنی حقیقی ہوتی ہے کہ عام صارف کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس کا تعلق واقعی کسی بینک یا ادارے سے ہے، حالانکہ حقیقت میں اس ویڈیو کا اس ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ پورا عمل ایک منظم سازش کے تحت کیا جاتا ہے تاکہ اعتماد حاصل کر کے اکاؤنٹ پر حملہ کیا جا سکے۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کا یہ غلط استعمال خاص طور پر ان لوگوں کے لیے خطرناک ہے جو ڈیجیٹل آگہی سے محروم ہیں۔

اسی طرح مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی ویڈیوز بنا کر اداکاروں اور مشہور شخصیات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بعض اوقات ان کی نقلی ویڈیوز بنا کر انہیں فوت شدہ دکھایا جاتا ہے، جس سے سوشل میڈیا پر سنسنی پھیل جاتی ہے۔ لوگ بغیر تصدیق کے ایسی ویڈیوز دیکھتے، شیئر کرتے اور ان پر یقین کر لیتے ہیں۔ اس کا مقصد کبھی ویوز حاصل کرنا ہوتا ہے اور کبھی اشتہارات کے ذریعے پیسہ کمانا۔ یہ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی خرابی کا باعث بن رہا ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک صورتحال جنگوں اور تنازعات کے دوران سامنے آتی ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی ایک ملک اور دوسرے ملک کے درمیان لڑائی کے دوران پھیلنے والی ویڈیوز میں سے صرف تھوڑی سی ویڈیوز حقیقی ہوتی ہیں اور اسکے علاوہ سینکڑوں جعلی ویڈیوز اے آئی سے تیار کروا کے پھیلائی جاتی ہیں کہ فلاں ملک نے ایسے کردیا اور جوابی کارروائی میں فلاں نے ایسے کردیا حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ان جعلی ویڈیوز کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ عام لوگ انہیں سچ سمجھ لیتے ہیں۔ کنٹینٹ کری ایٹرز اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں، زیادہ ویوز اور شیئرز حاصل کرتے ہیں اور مالی فائدہ کماتے ہیں۔

انتہائی محتاط طرزعمل اور ڈیجیٹل آگاہی کی سخت ضرورت ہے

مصنوعی ذہانت کے اس تیز رفتار دور میں عوام کے لیے سب سے اہم ضرورت یہ بن چکی ہے کہ وہ اے آئی سے بنائی گئی جعلی ویڈیوز، آڈیوز اور تصاویر اور حقیقی مواد کے درمیان فرق کرنا سیکھیں۔ کیونکہ اب ایسا وقت آ چکا ہے کہ سوشل میڈیا اور یوٹیوب وغیرہ پر صرف دیکھنے یا سننے کی بنیاد پر کسی چیز کو سچ مان لینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا مواد اس قدر حقیقت کے قریب ہو چکا ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے فوری طور پر فیصلہ کرنا ممکن نہیں رہا۔

اے آئی کے جعلی مواد سے بچنے کا سب سے پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ ہمیشہ آفیشل ذرائع پر اعتماد کیا جائے۔ مثال کے طور پر اگر صدرِ مملکت یا کسی اہم حکومتی شخصیت سے متعلق کوئی سنسنی خیز ویڈیو یا خبر سامنے آئے تو اسے فوراً سچ مان لینے کے بجائے متعلقہ آفیشل اکاؤنٹس یا سرکاری ذرائع کو ضرور چیک کیا جائے۔ آج تقریباً تمام ادارے اور اہم شخصیات سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کے ذریعے اپنی مصدقہ معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اگر کوئی ویڈیو یا بیان ان آفیشل پلیٹ فارمز پر موجود نہیں تو عقل اور سمجھداری کا تقاضا یہ ہے کہ ویڈیو خواہ کتنی ہی دلچسپ ، سنسنی خیز اور حقیقی ہو۔ اُس پر بالکل اعتماد نہ کریں۔ روزمرہ زندگی میں اے آئی کا غلط استعمال اسی وقت نقصان دہ بنتا ہے جب لوگ تصدیق کے بغیر یقین کر لیتے ہیں۔

اسی طرح بینکنگ فراڈ کے حوالے سے عوامی آگہی نہایت ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کو بینک کی طرف سے فون کال، ویڈیو یا آڈیو پیغام موصول ہو، چاہے وہ کتنا ہی پروفیشنل اور حقیقی کیوں نہ لگے، تو اس پر فوری ردِعمل دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ فوری طور پر لاٹری کا سن کر خوش ہونا یا فوری طور پر اکاؤنٹ میں مسئلہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہونا بے حد خطرناک ہے۔ موصول ہونے والی کال کو اچھی طرح تسلی سے سن لیں لیکن کوئی اثر نہ لیں بلکہ متعلقہ ادارے سے رابطہ کریں اور صورتحال کو واضح کریں۔یہی درست طریقہ ہے کہ خود بینک کی آفیشل ہیلپ لائن پر کال کرے، بینک کی مستند ویب سائٹ وزٹ کرے یا کسی قریبی برانچ سے براہِ راست تصدیق حاصل کرے۔ ویڈیو، تصویر یا آڈیو کی بنیاد پر فوری فیصلہ کرنا اکثر بھاری مالی نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔ اس طرح کی سینکڑوں مثالیں سامنے آرہی ہیں۔ خبردار رہنا ضروری ہے۔کبھی بھی دباؤ میں آ کر فیصلہ نہ کریں۔فراڈیے عموماً ایسی صورتحال پیدا کرتے ہیں جس میں جلدی کا عنصر شامل ہوتا ہے، جیسے اکاؤنٹ بند ہونے کا خطرہ، فوری تصدیق کی ضرورت یا کوئی خفیہ اطلاع۔ یہ سب نفسیاتی حربے ہیں جن کا مقصد سوچنے سمجھنے کی مہلت ختم کرنا ہوتا ہے۔

خاص طور پر بڑی عمر کے سیدھے سادھے اور پرانے لوگ اس طرح کے فراڈ کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ ان کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کم عقل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسے دور میں پلے بڑھے ہیں جہاں تصویر، آواز اور ویڈیو کو سچ مانا جاتا تھا۔ ان کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کوئی ویڈیو یا آڈیو بھی جعلی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے نوجوانوں اور تعلیم یافتہ افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کو ڈیجیٹل آگہی دیں، انہیں سمجھائیں کہ ہر نظر آنے والی چیز حقیقت نہیں ہوتی، اور کسی بھی مشکوک پیغام پر فوری ردِعمل نہ دیں۔سب سے مؤثر حل یہی ہے کہ عوام کو یہ سکھایا جائے کہ تصدیق کے بغیر اعتماد نہ کریں، آفیشل ذرائع کو ترجیح دیں، اور کسی بھی غیر معمولی خبر یا پیغام کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی حقیقت جانچیں۔

سافٹرائزڈاٹ آن لائن (مصنوعی ذہانت کا بہترین استعمال)

آخر میں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ مصنوعی ذہانت کے جن خطرات کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ دراصل اس پوری ٹیکنالوجی کا ایک نہایت چھوٹا سا حصہ ہیں۔ اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہزاروں خطرات میں سے شاید ایک یا دو ہی عام لوگوں کے سامنے آتے ہیں، جبکہ حقیقت میں ہر روز نئے خطرات پیدا ہورہے ہیں۔اسی لیے ان سے ہوشیار رہنا، محتاط رہنا اور آگہی حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ انہی خطرات کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت کے فوائد سینکڑوں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں، جو انسانی زندگی، کاروبار اور ٹیکنالوجی کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔

اگر مصنوعی ذہانت کو مثبت، قانونی اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ وہ نتائج دے سکتی ہے جو پہلے ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ خاص طور پر سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ویب سائٹ ڈیزائننگ اور موبائل ایپ ڈیولپمنٹ جیسے شعبوں میں اے آئی نے کام کرنے کا پورا طریقہ ہی بدل دیا ہے۔ پہلے جو پیچیدہ ترین سافٹ ویئر یا سسٹم تیار کرنے میں تین سے چار مہینے لگ جاتے تھے، وہی کام اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے چند دنوں میں ممکن ہو چکا ہے۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ لاگت کم، کام زیادہ درست اور نتائج زیادہ مؤثر ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ عملی فائدہ ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسان کے لیے فائدہ مند بھی ہے، اگر اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے۔

اسی مثبت اور ذمہ دارانہ فائدے کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ نئی کمپنی (سافٹرائزڈاٹ آن لائن)تشکیل دی ہے ۔

Softerize.Online

سافٹرائز ڈاٹ آن لائن ایک ایسی کمپنی ہے جو مکمل طور پر اے آئی کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے جدید اور ایڈوانس سافٹ ویئر فراہم کر رہی ہے۔ سافٹرائز کی مدد سے آپ کسٹم سافٹ ویئر، ورڈپریس پلگ انز، اور دیگر ڈیجیٹل حل حاصل کر سکتے ہیں جو آپ کی مخصوص بزنس ضروریات کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں۔

Custom WordPress Plugin Pakistan — Inventory, Issuance, Record-Keeping & 80mm Slip Printing | Softerize
Custom WordPress Plugin Pakistan — Inventory, Issuance, Record-Keeping & 80mm Slip Printing | Softerize

اگر آپ کوئی خاص سافٹ ویئر بنوانا چاہتے ہیں، جیسے کسٹم ورڈپریس پلگ ان یا بزنس آٹومیشن سسٹم، تو آپ سافٹرائز کی سروسز یہاں دیکھ سکتے ہیں:۔
https://softerize.online/categroy/custom-wordpress-plugin-development-pakistan/

اسی طرح اگر آپ اپنی دوکان، کاروبار یا کسی بھی سسٹم کو آن لائن لانا چاہتےہیں۔تو ہماری ویب سائٹ سافٹرائز ڈاٹ آن لائن سے آپ مکمل ویب سائٹ یا پورا آن لائن اسٹور بنوا سکتے ہیں۔ چاہے وہ ایک سادہ بزنس ویب سائٹ ہو یا مکمل ای کامرس اسٹور، اول سے لے کر آخر تک ہر چیز آپ کے لیے تیار کی جاتی ہے، جس میں ڈیزائن، ڈیولپمنٹ، پروڈکٹس، پیمنٹ سسٹم اور سیکیورٹی سب شامل ہوتی ہے۔ ویب سائٹ ڈیزائن اور ڈیولپمنٹ کے پیکیجز دیکھنے کے لیے یہ لنک ملاحظہ کریں:۔
https://softerize.online/categroy/website-design-development-pakistan/

Static Website Design Starter Package (5–7 Pages) – Pakistan - Softerize Online Software House in Pakistan. 2
Static Website Design Starter Package (5–7 Pages) – Pakistan – Softerize Online Software House in Pakistan. 2

اس کے علاوہ موبائل ایپس کا دور ہے، اور کاروبار کی ترقی کے لیے موبائل ایپ ایک طاقتور ذریعہ بن چکی ہے۔ سافٹرائز اینڈرائیڈ موبائل ایپس بھی تیار کرتی ہے جو جدید ٹیکنالوجی، اے آئی اور یوزر فرینڈلی ڈیزائن پر مبنی ہوتی ہیں۔ موبائل ایپ ڈیولپمنٹ کے پیکیجز یہاں دیکھے جا سکتے ہیں:۔
https://softerize.online/categroy/android-app-development-pakistan-softerize/

4 Powerful Android App Development Packages
Business Android App Development (API + Admin Ready)2

آخر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مصنوعی ذہانت بذاتِ خود نہ مکمل خطرہ ہے اور نہ ہی مکمل حل، بلکہ یہ ایک طاقتور ٹول ہے۔ اگر یہ ٹول غلط ہاتھوں میں چلا جائے تو نقصان کا سبب بن سکتا ہے، اور اگر یہی ٹول ذمہ دار کمپنیوں اور ماہرین کے ذریعے استعمال ہو تو ترقی اور سہولت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔سافٹرائز ڈاٹ آن لائن اسی ذمہ دار اور مثبت استعمال کی ایک عملی مثال ہے۔ آپ ہم سے کسی بھی وقت رابطہ کرسکتے ہیں۔ اگر سافٹ وئیر بنوانا ہے یا کوئی بھی خدمات حاصل کرنی ہیں تو براہ راست رابطہ کے لئے واٹس ایپ نمبر پر میسج کریں۔

WhatsApp # +92-345-0345581

آپکے بزنس کو ایک ویب سائٹ کی ضرورت ہے:3 بڑی وجوہات

آپکے بزنس کو ایک ویب سائٹ کی ضرورت ہے:3 بڑی وجوہات پاکستان میں ٹیکنالوجی سے دوری ایک ایسا مسئلہ بن چکاہے جو خاموشی سے ہماری معیشت اور مجموعی ترقی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ آج بھی ملک میں بے شمار ایسے کاروباری افراد موجود ہیں جن کے پاس بجٹ بھی ہے اور وسائل بھی ہیں مگر اس...

Why AI Alone Breaks: 4 Critical Side Effects That Prove Human Developers Still Matter

Why AI Tools Cannot Replace Human Developer and Web Designers In today’s digital era, it is completely natural to ask an important question: when artificial intelligence has become so fast, accessible, and affordable—especially with tools like ChatGPT—why should...

اے آئی مصنوعی ذہانت کے 4 خطرناک پہلو

اے آئی مصنوعی ذہانت کے 4 خطرناک پہلو آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ سوال بالکل فطری ہے کہ جب مصنوعی ذہانت اتنی عام، تیز اور سستی ہو چکی ہے—خصوصاً چیٹ جی پی ٹی جیسے جدید ٹولز کی موجودگی میں—تو پھر کسی ڈیولپر کو ہائر کرنے یا سافٹ ویئر ہاؤس کو ہزاروں روپے دینے کی ضرورت کیوں پیش...

Softerize Pakistan Mein Website – Online Store Ya Custom Software Kese Banwayen? 7 Best Packages

Pakistan Mein Website, Online Store Ya Custom Software Kese Banwayen? Softerize 7 Packages Softerize.online Pakistan ki aik professional website design, ecommerce development aur custom software solutions provide karne wali company hai jo Specially Pakistani...

4 Powerful Android App Development Packages in Pakistan (Cost, Features & Best Use)

4 Powerful Android App Development Packages in Pakistan (Cost, Features & Best Use) When people in Pakistan search for android app development pakistan, many of them are not looking for a complex or expensive solution. In reality, a very large number of users,...