آپکے بزنس کو ایک ویب سائٹ کی ضرورت ہے:3 بڑی وجوہات

آپکے بزنس کو ایک ویب سائٹ کی ضرورت ہے:3 بڑی وجوہات

پاکستان میں ٹیکنالوجی سے دوری ایک ایسا مسئلہ بن چکاہے جو خاموشی سے ہماری معیشت اور مجموعی ترقی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ آج بھی ملک میں بے شمار ایسے کاروباری افراد موجود ہیں جن کے پاس بجٹ بھی ہے اور وسائل بھی ہیں مگر اس کے باوجود وہ اپنے کاروبار کو ویب سائٹ، آن لائن سسٹمز یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لانے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس ہچکچاہٹ کی سب سے بڑی وجہ غلط فہمیاں ہیں ۔ اکثر کاروباری حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ بنوانا ایک غیر ضروری خرچ ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ بنوانے سے کوئی ترقی یا بزنس میں کوئی اضافہ نہ ہوگا یا پھر ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا خیال ہوتا ہے کہ آن لائن ویب سائٹ وغیرہ صرف بڑی کمپنیوں کے لیے ہوتی ہے۔ یہی سوچ دراصل سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زیادہ تر لوگ ٹیکنالوجی کو ایک پیچیدہ اور  مہنگا میدان سمجھتے ہیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ویب سائٹ بنوانے کے بعد وہ خود اسے چلانا نہ جان سکیں، یا کسی تکنیکی مسئلے میں پھنس جائیں۔ کچھ افراد ماضی کے تلخ تجربات کی وجہ سے بھی  پریشان ہوتے ہیں جہاں کسی ناقص اور بے ایمان شخص نے اُنکے ساتھ دھوکہ کیا ہوتا ہے۔۔ یہ بات بھی قابل تسلیم ہے کہ اس فیلڈ میں بہت سارے لوگ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ وہ جو کام ذمہ لیتے ہیں اُسکو ادھورا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ۔ اس کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے کاروباری افراد کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ایک سادہ سی ویب سائٹ بھی کس طرح ان کے گاہک بڑھا سکتی ہے، اور کمپنی کااعتماد لوگوں کے دلوں میں قائم کر سکتی ہے اور کاروبار کو چوبیس گھنٹے متحرک رکھ سکتی ہے۔کیونکہ ایک ویب سائٹ کھلی دکان کی طرح ہوتی ہے جو دن رات کسٹمر کو ویلکم کرتی ہے۔اسی تحقیق کے دوران یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ مسئلہ صرف “کیوں نہ بنائیں” کا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ“کیسے شروع کریں” ۔ لوگوں کو واضح رہنمائی بھی چاہئے ہوتی ہے۔

کیاواٹس ایپ اور فیس بک کافی ہیں” ؟۔

پاکستان میں سب سے پہلا اور سب سے عام مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ کاروباری افراد یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ان کا کام واٹس ایپ اور فیس بک پر ٹھیک چل رہا ہے۔ آرڈرز آ رہے ہیں، پیسے مل رہے ہیں اور سیلز ہو رہی ہیں تو اب ویب سائٹ بنوانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟ یہی وہ غلط فہمی ہے جہاں زیادہ تر لوگوں کا کاروبار آگے بڑھنے کے بجائے  رک جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ واٹس ایپ اور فیس بک آپ کے کاروبار کے کرائے کے پلیٹ فارم ہیں، نہ کہ آپ کی اپنی ملکیت۔ آج آرڈر زآ رہے ہیں، کل کسی تبدیلی کی وجہ سے، اکاؤنٹ بند ہونے  کی وجہ سے یا ریچ کم ہونے سے سب کچھ رُک سکتا ہے — اور آپ کے پاس کوئی متبادل نہیں ہوتا۔

اسی سوچ کے ساتھ جڑے ہوئے مزید سوالات بھی غور طلب ہیں: “ہم کمپنی کیوں رجسٹر کروائیں؟”، “لوگو اور کمپنی کے ٹریڈ مارک کی کیا ضرورت ہے؟ اور برانڈنگ کی کیا ضرورت ہے؟”، “ہم تو چھوٹا کام کر رہے ہیں، یہ سب بڑے بزنس کے چکر ہیں۔” یہی سوالات دراصل کاروبار کی ساخت کو کمزور بنائے رکھتے ہیں اور ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں۔ جب آپکے چھوٹے سے کاروبار کا کوئی نیا گاہک آتا ہے تو وہ سب سے پہلے آپکی کمپنی کے بارہ میں گوگل پر سرچ کرتاہے۔ وہ آپکی وبیب سائٹ تلاش کرتا ہے اور آپکی کمپنی کے بارے مزیدد جاننا چاہتا ہے تاکہ اُسکے اعتماد میں اضافہ ہوسکے۔ ویب سائٹ، رجسٹرڈ بزنس، واضح برانڈنگ اور پروفیشنل لوگو وہ عناصر ہیں جو گاہک کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ کسی عارضی سیلر (کسی عارضی اور جگاڑی آدمی سے)نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد کاروبار سے ڈیل کر رہا ہے۔

یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ویب سائٹ کا مقصد صرف آرڈر لینا نہیں ہوتا، بلکہ یہ آپ کے کاروبار کی ایک آن لائن مرکزی دکان ہوتی ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ سب اسی مرکز کی طرف گاہک کو لے کر آتے ہیں ۔ ویب سائٹ سے آپکو یہ سہولت بھی ملتی ہے کہ آپ اپنی شرائط پر بزنس کریں، اپنی کہانی خود بیان کریں، اپنی سروسز کو ترتیب سے پیش کریں اور وقت کے ساتھ کاروبار کو وسعت دیں۔ جو کاروبار یہ بنیاد شروع میں مضبوط نہیں کرتے، وہ بعد میں چاہتے ہوئے  بھی خود کو بڑے لیول پر نہیں لے جا سکتے۔اگر آپ واقعی کاروباری ہیں اور صرف آج نہیں بلکہ آنے والے سالوں کے بارے میں سوچتے ہیں، تو آپ کے لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ ویب سائٹ، برانڈنگ اور رجسٹریشن محض اضافی خرچ نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہے۔

ایک بہت بڑی غلط فہمی دور کریں

اگر آپ کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ چونکہ آپ کا کاروبار واٹس ایپ اور فیس بک پر صحیح چل رہا ہے، اس لیے سب کچھ ٹھیک ہے، تو یہ دراصل ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ سچ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز آپ کو صرف ایک مخصوص حد تک سہولت دیتے ہیں۔ اس حد کے بعد چاہے آپ جتنا بھی محنت کر لیں، آپ کا بزنس خود بخود رک جاتا ہے۔ گویا آگے ایک بڑی دیوار ہے جس سے بار بار ٹکراتا ہے ۔ شروع میں آرڈرز آتے ہیں، پیغامات کی بھرمار ہوتی ہے، لیکن جیسے جیسے گاہک بڑھتے ہیں، مسائل بھی بڑھنے لگتے ہیں۔بڑے بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں یعنی گاہک کو مکمل اعتماد نہیں ہوتا، آرڈرز کا ریکارڈ فیس بوک پر نہیں ہوتا، فالو اپ کا سسٹم بھی نہیں ہوتا اور اسی طرح آپکے گاہکوں کو کمپنی کا ایک مرکز نہیں ملتاکیونکہ فیس بوک تو ایک عارضی کرائے کی دوکان ہےجو کسی بھی وقت خالی کروا دی جائیگی۔

ویب سائٹ بنوائیں پاکستان میں
ویب سائٹ بنوائیں پاکستان میں

واٹس ایپ اور فیس بک بنیادی طور پر بزنس کے لیے نہیں بنائے گئے، بلکہ یہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز ہیں۔ آج اگر فیس بک اپنی پالیسی بدل دے، ریچ کم کر دے یا آپ کا پیج کسی وجہ سے بند ہو جائے، تو آپ کے پاس نہ گاہکوں کا ڈیٹا بچے گا اور نہ ہی کوئی مضبوط متبادل۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں کاروبار اچانک زیرو پر آ جاتے ہیں۔ بڑے لیول پر بزنس لے جانے کے لیے صرف چیٹ پر آرڈر لینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ آپ کو مکمل سسٹمز کی ضرورت پڑتی ہے جو کاروبار کو منظم، خودکار اور پوری طرح  کنٹرول کے قابل بنائیں۔

یہاں ویب سائٹ  کی پھر اشد ضرورت پڑتی ہے۔ ویب سائٹ آپ کے بزنس کو ایک مستقل بنیادی مرکز  دیتی ہے، جہاں آرڈرز خودکار طریقے سے آتے ہیں، پروڈکٹس واضح انداز میں نظر آتی ہیں، اور ہر گاہک کا ڈیٹا محفوظ رہتا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف سافٹ ویئرز — جیسے آرڈر مینجمنٹ، کسٹمر ریکارڈ، انوائس سسٹم اور رپورٹنگ — آپ کو یہ پاور دیتے ہیں کہ آپ اندازے سے نہیں بلکہ اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک چھوٹے آن لائن کام اور ایک  بڑے سنجیدہ کاروبار میں ہوتا ہے۔بڑے بڑے کاروبار ہمیشہ اپنا ایک مستقل مرکز بنا کر وہاں گاہکوں کا ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں اور پھر اسمیں ہر ماہ کے پورے اعداد و شمار کو حساب لگا کر اپنی سیلز بڑھاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بغیر ویب سائٹ اور سسٹمز کے آپ کا بزنس ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اگر آپ واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں، ٹیم بنانا چاہتے ہیں اور سالہا سال اپنے کاروبار کو چلانا چاہتے ہیں تو ویب سائٹ اور بزنس سافٹ ویئرز لازمی ضرورت ہیں۔

سوشل میڈیا پر انحصار  کرنا کاروبار کے لئے خطرہ ہے

دوسری اور نہایت اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ کا کاروبار فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ یا کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر چل رہا ہے۔ تو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ان تمام پلیٹ فارمز کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت، بغیر پیشگی اطلاع کے آپ کا اکاؤنٹ بلاک یا مکمل طور پر ختم کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی مفروضہ یا جھوٹی بات نہیں بلکہ ایک زمینی حقیقت ہے۔ٹوئٹر، فیس بوک اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ بناتے وقت ہم سب ایک طویل شرائط نامہ(ٹرمز اینڈ کنڈیشنز) قبول کرتے ہیں، جس میں صاف لکھا ہوتا ہے کہ کمپنی کسی بھی وقت، کسی بھی وجہ سے یا بغیر وجہ بتائے اکاؤنٹ بند کر سکتی ہے۔

ویب سائٹ بنوائیں پاکستان میں
ویب سائٹ بنوائیں پاکستان میں

یہ مسئلہ عملی طور پر ہزاروں لوگوں کے ساتھ پیش آ چکا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میرے ایک قریبی دوست کا فیس بک پیج، جو برسوں کی محنت سے بنایا گیا تھا، اچانک ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ نہ کوئی واضح وجہ بتائی گئی، نہ بلاک کا مرحلہ آیا — بلکہ پورا پیج ہی حذف ہو گیا۔ سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ اب وہ اس پیج کو نہ تو کلیم کر سکتا تھا، نہ شکایت درج کرا سکتا تھا اور نہ ہی ریویو کے لیے درخواست دے سکتا تھا۔ یعنی جس چیز پر اس کا کاروبار کھڑا تھا، وہ ایک لمحے میں ختم ہو گئی۔اسی طرح پاکستان، ہندوستان اور نیپال جیسے ممالک میں واٹس ایپ فراڈ کے کیسز زیادہ ہونے کی وجہ سے، واٹس ایپ اکثر بغیر وارننگ اکاؤنٹس بند کر دیتا ہے۔ میں نے نہ صرف اپنے دوستوں سے یہ مسئلہ بارہا سنا ہے بلکہ خود بھی اس تجربے سے گزر چکا ہوں۔ اسی لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ہم سب لوگ دراصل ان پلیٹ فارمز پر کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں — جہاں مالک جب چاہے ہمیں نکال سکتا ہے، اور ہمیں اعتراض کا بھی حق حاصل نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والا کاروبار کبھی بھی پائیدار، محفوظ اور بڑے لیول کے بزنس کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا۔ جب تک آپ کے پاس اپنی ویب سائٹ، اپنا ڈیٹا، اپنا سسٹم اور اپنی ڈیجیٹل ملکیت نہیں ہوگی، تب تک آپ کا کاروبار ہر وقت ایک خطرے میں رہے گا۔

ایک مستقل آن لائن دکان کی ضرورت ہے

تیسری اور نہایت بنیادی بات یہ ہے کہ واٹس ایپ اور فیس بک پر برانڈنگ انتہائی محدود ہوتی ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ ہم نے پروفائل پر لوگو لگا دیا، کور فوٹو لگا دی، چند پوسٹس اچھی ڈیزائن میں ڈال دیں — تو بس برانڈنگ مکمل ہو گئی۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ برانڈنگ صرف لوگو یا کور فوٹو کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک بہت بڑے مرحلہ کا نام ہے۔ جس میں کمپنی کا تعارفی صفحہ، رابطہ کا صفحہ اور دیگر صفحات جن میں پوری تفصیلات موجود ہوتی ہیں اور کسٹمر وہ پوری دکان آن لائن دیکھنا چاہتا ہے۔سوشل میڈیا پر یہ تجربہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ کیونکہ ڈیزائن، لے آؤٹ، رنگ، اسٹرکچر اور پریزنٹیشن سب کچھ پلیٹ فارم طے کرتا ہے — آپ نہیں۔

ایک مضبوط برانڈ کے لیے آپ کو ایک اپنی آن لائن دکان درکار ہوتی ہے، یعنی ایک ویب سائٹ، جہاں ہر چیز آپ کے کنٹرول میں ہو۔ وہاں آپ اپنی مرضی کی تصاویر لگا سکتے ہیں، اپنے برانڈ کے رنگوں کے مطابق مکمل ڈیزائن بنوا سکتے ہیں، اپنے پروڈکٹس یا سروسز کو ترتیب سے پیش کر سکتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے برانڈ کا قیمتی ڈیٹا محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نہ تو ڈیٹا آپ کی ملکیت ہوتا ہے اور نہ ہی آپ اسے صحیح معنوں میں منظم کر سکتے ہیں۔ جبکہ ویب سائٹ پر آنے والا ہر وزیٹر، ہر کلک اور ہر آرڈر آپ کے پاس ایک ریکارڈ بناتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ گوگل اور انٹرنیٹ کی مجموعی مارکیٹ میں آپ کی پہچان ویب سائٹ سے بنتی ہے۔ آپ چاہے واٹس ایپ پر جتنے بھی گروپس بنا لیں، چینلز چلا لیں یا فیس بک پر ہزاروں فالورز جمع کر لیں — اگر کوئی نیا کسٹمر گوگل پر آپ کا نام سرچ کرے اور اسے آپ کی ویب سائٹ نہ ملے، تو اس کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی آئے گا کہ “کیا یہ واقعی ایک بزنس ہےیا کوئی فراڈ ہے؟” گوگل دراصل انٹرنیٹ کی فہرست (یا یوں کہہ لیجیے انسائیکلوپیڈیا) ہے، اور اس فہرست میں شامل ہونا آج کے دور میں بزنس کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا بازار میں دکان کا ہونا۔

سیدھی سی بات ہے: بغیر ویب سائٹ کے آپ گوگل میں موجود ہی نہیں ہوتے۔ اور جو بزنس گوگل میں موجود نہ ہو، وہ بڑے لیول پر پہچانا ہی نہیں جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کسی کاروبار کا آغاز تو ہوسکتے ہیں مگر تکمیل صرف ویب سائٹ پر جا کر ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا کو کاروبار کی بنیاد بنانا غلط ہے

چوتھی اور شاید سب سے زیادہ غلط سمجھی جانے والی حقیقت یہ ہے کہ واٹس ایپ اور فیس بک دراصل سوشل پلیٹ فارمز ہیں، بزنس پلیٹ فارمز نہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں لوگ آپس میں بات کرنے، تفریح کرنے، خبریں دیکھنے اور وقت گزارنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یعنی یہ ایک معاشرہ اور ایک ماحول ہوتا ہے، نہ کہ کوئی منظم کاروباری نظام۔ ایسے ماحول کو اپنے کاروبار کی بنیاد بنا لینا بالکل ویسا ہی ہے جیسے کسی میلے میں عارضی اسٹال لگا کر یہ سوچ لینا کہ یہی مستقل دکان ہے۔ میلہ ختم ہوگا تو اسٹال بھی ختم ہو جائے گا — اور یہی سوشل میڈیا کے ساتھ ہوتا ہے۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل چینلز کو بھی ساتھ ساتھ چلائیں ۔یہ پلیٹ فارمز آپ کے لیے طاقتور ذرائع ہیں جہاں سے آپ اپنی آڈینس اکٹھی کر سکتے ہیں، اپنی پروڈکٹ یا سروس دنیا کے سامنے لا سکتے ہیں، اور فوری سیلز بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ مگربزنس ہمیشہ تب مضبوط ہوتا ہے جب اس کے پیچھے ایک باقاعدہ نظام، واضح ڈھانچہ اور مستقل بنیاد موجود ہو — اور یہ سب کچھ بغیر ویب سائٹ کے ممکن نہیں۔ایک ویب سائٹ دراصل آپ کے کاروبار کی مرکزی دوکان ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا سے آنے والی ساری ٹریفک، سارے لیڈز اور سارے کسٹمرز آخرکار اسی دوکان پر آتے ہیں، جہاں آپ کے پاس مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کاروبار کو دوسرے لیول تک لے جانے کے لیے اندازوں پر نہیں بلکہ ڈیٹا، رپورٹنگ اور سسٹمز پر چلنا پڑتا ہے۔ اور یہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب آپ کے پاس ایک باقاعدہ ویب سائٹ، ایک منظم آن لائن دوکان اور مضبوط برانڈنگ موجود ہو۔

پاکستانی لوگ کیوں ویب سائٹ نہیں بنواتے ؟

دوسرا بڑا اور نہایت سنگین مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں بہت سے لوگ کاروبار تو شروع کر لیتے ہیں، اور کچھ حد تک یہ شعور بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ اب انہیں ویب سائٹ بنوانی چاہیے تاکہ وہ انٹرنیٹ کی دنیا میں اپنے کاروبار، اپنی محنت اور اپنی ٹیم کو متعارف کروا سکیں۔ مگر اسی مرحلے پر سب سے خطرناک رکاوٹ سامنے آتی ہے — دھوکہ دہی اور فراڈ۔ بدقسمتی سے اس فیلڈ میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو خوبصورت باتیں، سستے پیکجز اور سنہرے خواب دکھا کر لوگوں سے پیسے تو لے لیتے ہیں، مگر نہ معیار دیتے ہیں اور نہ ذمہ داری۔اکثر یہ ہوتا ہے کہ بزنس اونر (کاربوار کے مالک )کو ٹیکنالوجی کی زیادہ سمجھ نہیں ہوتی۔ وہ سادہ دل سا بندہ یہ سمجھتا ہے کہ شاید ویب سائٹ بس ایک دو صفحات کا نام ہے، جو کوئی بھی بنا سکتا ہے۔ یہی ناسمجھی فراڈیوں کے لیے موقع بن جاتی ہے۔ کچھ لوگ پورا پیمنٹ ایڈوانس لے کر غائب ہو جاتے ہیں، کچھ آدھا ادھورا کام پکڑا دیتے ہیں، اور اگر ویب سائٹ بنا بھی دیں تو اتنی ناقص اور کمزور ہوتی ہے کہ دو تین مہینے بعد ہی مسائل شروع ہو جاتے ہیں۔ کبھی ویب سائٹ سست ہو جاتی ہے، کبھی موبائل پر صحیح نہیں کھلتی، کبھی گوگل میں نظر ہی نہیں آتی — اور یوں وہ ویب سائٹ کاروبار کے لیے فائدہ دینے کے بجائے نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔

یہاں سب سے بڑا نقصان صرف پیسے کا نہیں ہوتا، بلکہ اعتماد کا ہوتا ہے۔ کاروباری لوگ یہ نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں کہ “ویب سائٹس فضول ہوتی ہیں”، “آن لائن کام میں کچھ نہیں رکھا”، یا “یہ سب دھوکہ ہے”۔ حالانکہ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ غلط لوگوں کا انتخاب ہوتا ہے۔ ایسے فراڈی لوگ اپنا وقتی منافع بنا لیتے ہیں، مگر آپ کے بزنس کو کمزور بنیاد پر کھڑا کر کے چلے جاتے ہیں، اور آپ کو آئندہ  بھی ڈیجیٹل سرگرمیوں سے بدظن اور خوفزدہ کردیتے ہیں۔

دونوں مسائل کا بہترین اور آسان حل

انہی سب صورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اس پورے مسئلے کا صحیح حل محض ویب سائٹ بنانا نہیں بلکہ درست رہنمائی، صحیح پلاننگ اور مضبوط بنیاد رکھنا ہے — اور یہی کام سافٹرائز کرتا ہے۔ ہم نے اس شعبے میں کسی ایک دن یا ایک مہینے کی نہیں بلکہ طویل تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان میں زیادہ تر کاروبار کی ناکامی کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ اُنکے پاس سرمایہ نہیں ہے۔ بلکہ اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ آن لائن آنے کے بعد اُنہیں صحیح رہنمائی نہیں ملتی۔اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے آن لائن اسٹور اور بزنس ویب سائٹس کے لیے مرحلہ وارپیکیجز متعارف کروائے ہیں، تاکہ ہر کاروباری شخص اپنی حیثیت کے مطابق آغاز کر سکے۔

اگر آپ کا بجٹ کم ہے تو آپ کو یہ مجبور نہیں کیا جاتا کہ آپ ایک ہی دن میں سب کچھ خرید لیں۔ آپ چھوٹے پیکیج سے شروعات کر سکتے ہیں، اپنا بزنس آن لائن لا سکتے ہیں اور جیسے جیسے کام آگے بڑھےگا۔ وقتاً فوقتاً سسٹمز، فیچرز اور سہولیات میں اضافہ کرتے جا سکتے ہیں۔ اصل یہی فرق ہماری پہچان ہےکہ ہم صرف ویب سائٹ، سافٹ ویئر یا ڈیزائن بیچنے نہیں ، بلکہ سب سے پہلے آپ کے کاروبار کو سمجھتے ہیں۔ آپ کیا بیچتے ہیں؟ آپ کا گاہک کون ہے؟ آپ کے گاہک کو کیا چاہئے؟ اور آپ کو اگلے چھ ماہ یا ایک سال میں کہاں ہونا چاہیے؟ انہی سوالات کی بنیاد پر آپ کو مشورہ دیا جاتا ہےاور انہی کی بنیاد پر آپکو  مکمل صحیح طور پر رہنمائی کی جاتی ہے۔

اکثر لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ “دوسرے لوگ تو بیس پچیس ہزار میں ویب سائٹ بنا دیتے ہیں، آپ زیادہ پیسے کیوں لیتے ہیں؟” اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے۔ اگر بات صرف ایک سادہ ویب سائٹ بنانے کی ہوتی تو شاید واقعی اس کی اتنی اہمیت نہ ہوتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ویب سائٹ نہیں، پورا بزنس پلان ڈویلپ کرتے ہیں۔ ایک ایسا پلان جو آج نہیں تو کل، اور کل نہیں تو ایک سال بعد، آپ کے کاروبار کو ایک مضبوط، قابلِ اعتماد اور مشہور برانڈ بناتا ہے۔ سستی ویب سائٹ سے وقتی طور پر آپکا گزارا چل جائیگا لیکن مضبوط بنیاد کسی بھی کاروبار کو لمبے عرصے تک چلانے کے لئے لازمی اور فرض ہوتی ہے۔

ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ناقص فیصلے کس طرح لوگوں کو ٹیکنالوجی سے دور کردیتے ہیں۔ اُنکو بدظن کر دیتے ہیں۔ اسی لیے ہماری اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ کلائنٹ کو وہی حل دیا جائے جو اس کے کاروبار کے لیے واقعی ضروری ہو — نہ کم، نہ زیادہ۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا بزنس صرف آج نہیں بلکہ آنے والے برسوں تک آن لائن ایک مضبوط برینڈ بنائے، تو پھر جلد بازی اور کنجوسی سے کام نہ لیں بلکہ درست  راستہ اختیار کریں ۔

سافٹرائز ڈاٹ آن لائن۔۔۔ ایک بہترین پاکستانی سافٹ وئیر ہاؤس

آخر میں آپ کے لیے میرا مخلصانہ اور عملی مشورہ یہی ہے کہ جب بھی آپ ویب سائٹ، آن لائن اسٹور، موبائل ایپ یا کسی خاص کاروباری سافٹ ویئر کا ارادہ کریں تو ہمیشہ کسی مستند اور تجربہ کار سافٹ ویئر ہاؤس سے رابطہ کریں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ایک باقاعدہ سافٹ ویئر ہاؤس کے ریٹس عام فری لانسرز کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہوتے ہیں، مگر اس کی  بھی ایک خاص وجہ ہوتی ہے کہ سافٹ وئیر ہاوس والے پوری ذمہ داری، تجربے اور تسلسل  سے کام کرتے ہیں۔ ایک برانڈڈ سافٹ ویئر ہاؤس آپ کو صرف کام مکمل کر کے نہیں دیتا، بلکہ درست مشورہ بھی دیتا ہے، مستقبل کے خطرات سے آگاہ کرتا ہے، اور سب سے اہم بات یہ کہ کام مکمل ہونے کے بعد بھی آپ کے ساتھ رہتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ فری لانسرز کے ہاتھوں دھوکہ کھا چکے ہیں۔ کام آدھا چھوڑ دینا، ناقص ویب سائٹ دینا، یا پیسے لے کر غائب ہو جانا — یہ سب تجربات کاروباری افراد کو اتنا بدظن کر دیتے ہیں کہ وہ دوبارہ ٹیکنالوجی کی طرف آنے کا سوچتے ہی نہیں۔ حالانکہ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ غلط لوگوں کا انتخابتھا۔ ایک اچھا سافٹ ویئر ہاؤس اس بات کو سمجھتا ہے کہ بزنس صرف آج کا نہیں، بلکہ آنے والے سالوں  اور مسلسل ترقی کا نام ہے۔

ویب سائٹ بنوائیں پاکستان میں
ویب سائٹ بنوائیں پاکستان میں

چاہے آپ:۔

آن لائن اسٹور بنانا چاہتے ہوں

صرف اپنے کاروبار کے تعارف کے لیے ویب سائٹ درکار ہو

اپنی ضروریات کے مطابق کوئی خاص سافٹ ویئر بنوانا ہو

یا اینڈرائیڈ موبائل ایپ تیار کروانی ہو

آپ  سافٹرائزکو خدمت کا موقع دیں۔

مزید معلومات اور براہِ راست رابطے کے لیے آپ اس واٹس ایپ نمبر پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں:۔
WhatsApp: 0345-0345581

یاد رکھیں!!!درست اور بروقت  فیصلہ آپ کے کاروبار کو لمبے عرصے تک ترقی کی راہوں پر گامزن رکھتا ہے۔

Why AI Alone Breaks: 4 Critical Side Effects That Prove Human Developers Still Matter

Why AI Tools Cannot Replace Human Developer and Web Designers In today’s digital era, it is completely natural to ask an important question: when artificial intelligence has become so fast, accessible, and affordable—especially with tools like ChatGPT—why should...

اے آئی مصنوعی ذہانت کے 4 خطرناک پہلو

اے آئی مصنوعی ذہانت کے 4 خطرناک پہلو آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ سوال بالکل فطری ہے کہ جب مصنوعی ذہانت اتنی عام، تیز اور سستی ہو چکی ہے—خصوصاً چیٹ جی پی ٹی جیسے جدید ٹولز کی موجودگی میں—تو پھر کسی ڈیولپر کو ہائر کرنے یا سافٹ ویئر ہاؤس کو ہزاروں روپے دینے کی ضرورت کیوں پیش...

اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا تعارف اور اے آئی کے 5 خطرناک فراڈ

اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا تعارف اے آئی یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس جسے اردو میں مصنوعی ذہانت کہا جاتا ہے، دراصل جدید ٹیکنالوجی کی وہ شکل ہے جس کے ذریعے کمپیوٹر اور مشینیں انسانی ذہانت کی نقل کرتے ہوئے فیصلے کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کیا ہے؟ اس سوال کا سادہ جواب...

Softerize Pakistan Mein Website – Online Store Ya Custom Software Kese Banwayen? 7 Best Packages

Pakistan Mein Website, Online Store Ya Custom Software Kese Banwayen? Softerize 7 Packages Softerize.online Pakistan ki aik professional website design, ecommerce development aur custom software solutions provide karne wali company hai jo Specially Pakistani...

4 Powerful Android App Development Packages in Pakistan (Cost, Features & Best Use)

4 Powerful Android App Development Packages in Pakistan (Cost, Features & Best Use) When people in Pakistan search for android app development pakistan, many of them are not looking for a complex or expensive solution. In reality, a very large number of users,...