اے آئی مصنوعی ذہانت کے 4 خطرناک پہلو

اے آئی مصنوعی ذہانت کے 4 خطرناک پہلو

آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ سوال بالکل فطری ہے کہ جب مصنوعی ذہانت اتنی عام، تیز اور سستی ہو چکی ہے—خصوصاً چیٹ جی پی ٹی جیسے جدید ٹولز کی موجودگی میں—تو پھر کسی ڈیولپر کو ہائر کرنے یا سافٹ ویئر ہاؤس کو ہزاروں روپے دینے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ بظاہر تو ہر طرف یہی دعوے نظر آتے ہیں کہ “ایک کلک میں ویب سائٹ بنائیں”، “خود اپنی ایپ تیار کریں”، یا “مفت میں مکمل بزنس سسٹم حاصل کریں”۔ یوٹیوب ویڈیوز اور اشتہارات اس طرح کی باتوں سے بھری ہوئ نظر آتی ہیں کہ اب انسانوں کی ضرورت شاید ختم ہو چکی ہے۔ مگر کیا حقیقت واقعی یہی ہے؟

اصل بات یہ ہے کہ اے آئی ٹولز سہولت فراہم کرتے ہیں،اے آئی آپ کو ٹیمپلیٹس، کوڈ اسنیپٹس، ڈیزائن آئیڈیاز اور حتیٰ کہ ابتدائی ویب سائٹ یا ایپ بنانے میں مدد دے سکتا ہے لیکن  ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ وہ آپ کے کاروبار کی گہری سمجھ،کسٹمرز کی آسانی، مقامی مارکیٹ کی ضروریات، اور بہت بڑے پروجیکٹ کو خود بخود نہیں سمجھ سکتا۔ ایک سافٹ ویئر ڈیولپر یا سافٹ ویئر ہاؤس صرف کوڈ نہیں لکھتابلکہ  وہ پہلے آپکا مسئلہ سمجھتا ہے، پھر اسکا لاجک اور سسٹم تیار کرتا ہے، سیکیورٹی، کارکردگی، ڈیٹا بیس اسٹرکچر، ایس ای او ، یوزر ایکسپیرینس اوراس طرح کی بیسیوں چیزوں کو آپ سے سمجھ کر وہ زیر بحث لاتاہے۔

اکثر لوگ اے آئی سے بنائی گئی ویب سائٹس پر چند دن میں یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ سائٹ سست ہے، موبائل پر درست نہیں کھلتی، گوگل پر رینک نہیں ہو رہی، یا بزنس کی اصل ضرورت پوری نہیں کر رہی۔ ایسے لوگ پھر سمجھ جاتے ہیں کہ واقعی اے آئی کافی نہیں بلکہ ڈویلپرز حضرات کی مدد بھی لینی چاہئے۔

یوں سمجھ لیں کہ اے آئی ایک طاقتور ٹول ہے—بالکل کیلکولیٹر کی طرح—لیکن کیلکولیٹر کی ایجاد کو بیسیوں سال گزر جانے کے بعد بھی عمارت اب بھی انجینئر ہی ڈیزائن کرتا ہے۔ منشی اور اکاؤنٹنٹ کی ضرورت آج بھی باقی ہے۔اگر مقصد صرف سیکھنا ہو یا کچھ مدد حاصل کرنا ہو تو اے آئی بہترین ہےلیکن اگر واقعتاً ایک بہترین ویب سائٹ، موبائل اینڈرائڈ ایپ یا پھر سافٹوئیر چاہئےتو یقین جانیں یہ کام بغیر کسی پروفیشنل کے نہیں ہوسکتا۔

اے آئی انسان کا متبادل نہیں ہے(ایک تلخ حقیقت)۔

یہ بات جتنی بار دہرائی جائے کم ہے کہ اے آئی کبھی بھی انسان کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔ میں اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا کہ آج مصنوعی ذہانت مشکل ترین کوڈ لکھ دیتی ہے، بڑے بڑے پروجیکٹس کے خاکے بنا دیتی ہے، حتیٰ کہ پیچیدہ لاجک بھی لمحوں میں پیش کر دیتی ہے۔ مگر یہاں ایک نہایت اہم نکتہ ہے جسے اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ اے آئی سے عام آدمی کبھی بھی خود سے نہیں بنوا سکتا۔ اس کی وجہ اے آئی کی کمزوری نہیں، بلکہ یہ سمجھداری ہے۔ کہ وہ عام آدمی کو پرکھ لیتا ہے اور اُسکو کبھی کچھ نہیں بنا کردیتا۔یاد رکھیں! چیٹ جی پی ٹی یا کوئی بھی جدید اے آئی ٹول دراصل ایک انتہائی ذہین مشین ہے۔ یہ صرف جواب نہیں دیتا بلکہ سوال کرنے والے کی ذہنی سطح، ٹیکنیکل سمجھ، اور اصطلاحات کے استعمال کو بھی فوراً بھانپ لیتا ہے۔ اگر آپ کو بنیادی چیزوں—جیسے پروگرامنگ کی اصطلاحات، فریم ورک، ڈیٹا بیس، یا سسٹم آرکیٹیکچر—کا درست علم نہیں، تو آپ جتنا بھی “سمارٹ” سوال پوچھ لیں، نتیجہ غلط ہی ہوگا۔ ناقابل استعمال چیز آپکو ملے گی اور جواب ہمیشہ ادھورا ہی ملےگا۔بلکہ اپنے مشاھدات اور تجربات سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسے کوڈز اور ایسے حل ملیں گے جنہیں دیکھ کر آپ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے۔

یہاں تک کہ تجربہ کار ڈویلپر حضرات بھی بعض اوقات اے آئی کے دیے گئے حل پر حیران یا پریشان ہو جاتے ہیں، کیونکہ اے آئی کانٹیکسٹ، بزنس لاجک اور اصل حقائق کو خود سے مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا۔ اب ذراخود  سوچیے جس شخص نے کبھی کوڈنگ نہیں کی، اسے یہ کیسے پتا چلے گا کہ اے آئی کا دیا ہوا کوڈ صحیح ہے یا نہیں؟

شروع شروع میں، جب اے آئی نسبتاً نیا تھا، کچھ نہ کچھ “جگاڑ” نکل آیا کرتا تھا۔ وہ مکمل جوا ب دیا کرتا تھا اور کافی مددگار بھی تھا ۔ مگر اب حقیقت یہ ہے کہ اے آئی خود بھی وقت کے ساتھ زیادہ سمجھدار ہوتا جارہا ہے۔ وہ مزاج کو سمجھنے میں اب مزید تیز ہوگیا ہے۔ اصولی باتوں پر فوکس کرنے میں وہ بہت سختی سے کام لے رہا ہے ۔ وہ سوال کو باریک بینی سے پرکھتا ہے، اور اگر سوال کمزور ہو تو جواب بھی ویسا ہی ملتا ہے۔ اے آئی وہی دیتا ہے جو آپ مانگتے ہیں—اور اگر آپ کو یہ ہی نہیں معلوم کہ مانگنا کیا ہے اور کام کروانا کیسے ہے تو سوائے نقصان کے آپکو کچھ حاصل نہ ہوگا۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اے آئی ایک طاقتور اوزارہے، مگر اوزار اور اسلحہ چلانے والا ایک ہنرمند انسان ہونا ضروری ہےورنہ اگر ہتھیار کسی غلط آدمی کے ہاتھ میں چلا جائے تو آپ کو پتہ ہے کہ پھر انجام کیا ہوتا ہے۔

دوسرا اہم پہلو: سافٹ وئیر کوئی جادو سے نہی بنتا

دوسری اور سب سے زیادہ نظر انداز کی جانے والی حقیقت یہ ہے کہ سافٹ ویئر، موبائل ایپس اور ویب ڈویلپمنٹ کوئی جادو نہیں کہ ایک لائن لکھی اور پوری ویب سائٹ تیار ہو گئی۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا، اشتہارات اور یوٹیوب ویڈیوز نے یہ تاثر بنا دیا ہے کہ جیسے ڈویلپمنٹ صرف “پرامپٹ دینے” کا نام ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک اچھی، قابلِ اعتماد اور بزنس کے قابل ویب سائٹ ہمیشہ تین بنیادی ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے، اور ان میں سے ہر ستون خود کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔

پہلا مرحلہ طریقۂ کار
 (Process & Logics)
کا ہوتا ہے۔ اس میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ سسٹم کے پیچھے کون سے عوامل ہوں گے، کون سا ڈیٹا کہاں سے آئے گا، یوزر کیا کرے گا تو سسٹم کیا ردِعمل دے گا، مختلف حصے آپس میں کیسے جڑیں گے، اور پورا نظام بطورِ مجموعی کیسے کام کرے گا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بزنس سمجھ، تجربہ اور منطقی سوچ سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اے آئی یہاں صرف آئیڈیاز دے سکتا ہے، مگر یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ آپ کے مخصوص کاروبار کے لیے کون سا لاجک درست ہے۔

دوسرا مرحلہ ڈویلپمنٹ کا ہوتا ہے، یعنی انہی لاجکس اور عوامل کو کوڈ کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑنا۔ یہاں سیکیورٹی، پرفارمنس، اسکیلنگ، ڈیٹا بیس اسٹرکچر، ایرر ہینڈلنگ اور اس طرح کے دیگر معاملات آتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ ہی معلوم نہیں کہ کون سا کوڈ کہاں اور کیوں لکھا جا رہا ہے، تو اے آئی سے لیا گیا کوڈ ایک ایسے دھاگے کی طرح ہوگا جس کا سرا ہی ہاتھ میں نہ ہو۔ آپ بہت سارے کوڈ لکھوالیں گے مگر جوڑ نہیں سکیں گے۔ نتیجہ پھر وہی ہوگا کہ آپ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے او ر کسی پروفیشنل کو ڈھونڈنے نکل جائیں گے۔

تیسرا مرحلہ ڈیزائننگ کا ہوتا ہے، جسے اکثر لوگ صرف خوبصورت رنگ اور بٹن سمجھ لیتے ہیں۔ حقیقت میں ڈیزائننگ یوزر ایکسپیرینس، یوزر جرنی، موبائل ریسپانسِو نیس، اور کنورژن پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ ایک غیر پروفیشنل ڈیزائن خوبصورت تو لگ سکتا ہے، مگر بزنس نہیں چلاتا۔اب سوال یہ ہے: کیا یہ سب کچھ آپ اے آئی سے کروا سکتے ہیں، وہ بھی بغیر یہ جانے کہ کہاں کیا چیز لکھنی ہے؟تو اسکا صحیح اور حقیقت پسندانہ جواب یہی ہے کہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔

اسی لیے پروفیشنل دنیا میں آج بھی یہی اصول ہے کہ اے آئی کو بطور مددگارٹول استعمال کریں لیکن بطور ڈویلپر استعمال کرنا ممکن نہیں ہے۔اس غلط فہمی سے جتنا جلدی باہر نکلیں گے کہ “اے آئی ہے تو ڈویلپر کی کیا ضرورت”اتناہی آپکے لئے فائدہ مند ہوگا۔

صرف ایک ویب سائٹ بنا لینا مقصد نہیں ہوتا

تیسری اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک بڑی ویبسائٹ بنا دینا مقصد نہیں ہوتا بلکہ یہ تو ایک شروعات ہوتی ہے۔ مان لیتے ہیں کہ آپ نے آٹھ، دس یا پندرہ پرامپٹس دے کر کسی بھی طرح اے آئی کی مدد سے ایک ویب سائٹ کھڑی کر لی۔ بظاہر سب کچھ چل بھی رہا ہے۔ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی—اصل امتحان تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ویب سائٹ بننے کے بعد سینکڑوں نہیں تو درجنوں تبدیلیاں ناگزیر ہوتی ہیں۔ کبھی لے آؤٹ درست نہیں لگتا، کبھی موبائل ویو خراب ہوتا ہے، کبھی فارم ڈیٹا صحیح جگہ محفوظ نہیں ہو رہا، کبھی پیج اسپیڈ کم ہے، کبھی ایس ای او متاثر ہو رہا ہے، اور کبھی سادہ سی تبدیلی پورا سسٹم ہلا دیتی ہے۔ ہر بزنس کی اپنی ضروریات ہوتی ہیں، اور ہر ویب سائٹ کو اپنے مطابق بار بار فائن ٹیون کرنا پڑتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی اصول یاد رکھیں۔ اے آئی آپ کو کبھی بھی سو فیصد مکمل چیز بنا کر نہیں دیتا۔ مصنوعی ذہانت آپ کے کام میں مدد کر سکتی ہے، راستہ دکھا سکتی ہے، مثالیں دے سکتی ہے—مگر وہ مکمل ذمہ داری لے کر کام انجام نہیں دیتی۔ وہ یہ نہیں جانتی کہ آپ کے بزنس کے لیے کون سی تبدیلی کتنی ضروری ہے، کون سا فیچر وقتی ہے اور کون سا آگے چل کر بہت زیادہ استعمال ہوگا۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب آپ خود ان تبدیلیوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں—بغیر تکنیکی سمجھ کے—تو آپ پھر سے پھنس جاتے ہیں۔ ایک مسئلہ حل کرتے ہیں تو دوسرا پیدا ہو جاتا ہے۔ وقت بھی ضائع ہوتا ہے، پیسہ بھی، اور آخرکار بزنس کو نقصان الگ ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر اکثر لوگ مایوسی کے ساتھ کسی ڈویلپر یا سافٹ ویئر ہاؤس کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، مگر تب تک بہت سا نقصان ہو چکا ہوتا ہےاور سارا پیسہ دوبارہ لگانا پڑتا ہے۔پھر لوگوں کو نتیجتاً ٹیکنالوجی، سافٹوئیر ہاوس اور ڈویلپرز سے بھی بدگمانی ہوتی ہے۔ اس لئے صحیح فیصلہ کریں، حقائق کو سمجھیں۔

پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد اصل مرحلے کا آغاز ہوتاہے

چوتھی اور فیصلہ کن حقیقت یہ ہے کہ ویب سائٹ یا سافٹ ویئر پروجیکٹ مکمل ہونا ایک اختتام نہیں بلکہ یہاں سے ایک اورنئے مرحلے کا آغاز ہوتا ہے—جسے پروفیشنل دنیا میں
Support & Error Fixing
 کہا جاتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ سسٹم بن گیا یا نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اسے قائم کیسے رکھنا ہے، بہتر کیسے بنانا ہے، اور مسائل آنے پر فوراً کیسے سنبھالنا ہے۔ یہی وہ  پوائنٹ ہے جہاں مصنوعی ذہانت پھر سے بے بس ہوجاتی ہے۔وقت کے ساتھ ہر ویب سائٹ اور ایپ میں ایررز آتے ہیں۔ کبھی سروَر کا مسئلہ، کبھی ڈیٹا بیس سلو، کبھی سیکیورٹی کا خطرہ، کبھی اچانک ٹریفک بڑھنے سے سسٹم بیٹھ جانا۔ جب ڈیٹا بڑھتا ہے تو سادہ ویب سائٹ کو بھی اچھی خاصی نگرانی کی ضرورت پڑتی ہے۔نیا انفراسٹرکچر، بہتر کوڈ اسٹرکچر، کیشنگ، اور پرفارمنس آپٹیمائزیشن۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے لئے پھر سے آپکو پروفیشنل ڈویلپر ہائیر کرنا پڑے گا۔

جب آپکا بزنس چل پڑےاور ویب سائٹ لائیو ہو پھر اچانک ایرر آجائے توایسے نازک  ترین لمحات میں اگر ویب سائٹ یا ایپ میں کوئی سنجیدہ ایرر آ جائے تو اکثر اوقات اے آئی فیل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اے آئی اس وقت تک مدد دے سکتا ہے جب تک مسئلہ واضح ہواور اسکو بیان کرکے چیٹ جی پی ٹی کو بتایا جائے ۔ مگر جب سسٹم کریش ہو، لاگز الجھے ہوں، یا ڈیٹا خطرے میں ہو، تو وہاں ایک سمجھدار ڈویلپر اور انجینئر کی سخت ضرورت پڑ جاتی ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر پورا پروجیکٹ ابتدا ہی سے چیٹ جی پی ٹی یا کسی اور اے آئی ٹول کے ذریعے بغیر کسی پروفیشنل پلاننگ کے بنایا گیا ہو، تو بعد میں آنے والا ڈویلپر بھی اسے آسانی سے نہیں سمجھ پاتا۔ کوڈ اسٹرکچر بے ترتیب، ڈاکیومنٹیشن غائب، اور لاجکس ایسی ہوں گی جو کسی پروفیشنل کو سمجھ نہ آئیں یعنی اناڑی کا کام تو پھر اناڑی ہی جانے وہاں کھلاڑی کا کیا کام؟ ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ آپ خود مسئلہ حل کر پاتے ہیں، نہ اے آئی مدد کرسکتا ہےاور نہ ہی نیا ڈویلپر فوری طور پر سسٹم سنبھال پاتا ہے۔

آخرکار انجام وہی ہوتا ہے۔ پیسوں کا ضیاع، وقت کا نقصان، اور بزنس کا خسارہ۔

اسی لیے ان چاروں نکات کو ذہن میں رکھنا بے حد ضروری ہے کہ اے آئی چھوٹے موٹے، وقتی اور مختصر کاموں کے لیے شاندار ہے—جیسے آئیڈیاز، ڈرافٹس یا سادہ اسکرپٹس۔ مگر بڑے، سنجیدہ اور بزنس کریٹیکل پروجیکٹس کے لیے یہ ہرگز کافی نہیں، خاص طور پر جب اسے کوئی عام آدمی استعمال کر رہا ہو۔دانشمندی اسی میں ہے کہ اے آئی کو اپنا مددگار بنائیں، مگر بنیاد، ذمہ داری اور کنٹرول ہمیشہ ایک تجربہ کار انسان کے ہاتھ میں رہنے دیں۔ یہ فرق اور حقیقت آپ جتنی جلدی سمجھ لیں گے اتنی آسانی رہےگی۔

ان سب مسائل کا نچوڑ اور بہترین حل کیا ہے؟

تو دوستو! ان تمام نکات کا آخری نچوڑ یہی ہے کہ اگر آپ واقعی اپنے کاروبار کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیشہ کسی اچھے، تجربہ کار ڈویلپر یا قابلِ اعتماد سافٹ ویئر ہاؤس سے رابطہ کریں۔ وقتی  اور جوشیلے اشتہارات کے دھوکے میں نہ آئیں جہاں پر مختلف دعوے کئے گئے ہوں کہ ایک کلک پر ویب سائٹ بنوائیں۔ اپنی ویب سائٹ مفت بنوائیں یا پھر اپنی ائنڈرائڈ ایپ خود بنائیں ۔ ان غیرحقیقی دعووں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ایک پروفیشنل راستہ اپنائیں—کیونکہ آپکا کاروبار کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تجربات کئے جائیں یا اسکو تختہ مشق بنایا جائے۔

اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا تعارف اور اے آئی کے 5 خطرناک فراڈ
اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا تعارف اور اے آئی کے 5 خطرناک فراڈ

اسی وژن اور سوچ کے ساتھ سافٹرائز ڈاٹ آن لائن ایک جدید آن لائن سروس کے طور پر کام کر رہا ہے، جہاں ہم وائب کوڈنگ
 (AI-assisted development)
کو پروفیشنل پلاننگ کے ساتھ ملا کر آپ کے پراجیکٹس کم وقت میں، بہتر معیار کے ساتھ ڈیلیور کرتے ہیں۔ یعنی اے آئی کو بطور ٹول استعمال کیا جاتا ہےتاکہ کام کی کوالٹی بہتر ہوسکے اور پراجیکٹس آن ٹائم ڈلیور کرسکیں۔چاہے آپ کو اینڈرائڈ موبائل ایپ بنوانی ہو، مکمل بزنس ویب سائٹ درکار ہو، یا کمپیوٹر/ڈیسک ٹاپ سافٹ ویئر—ہم ہر سطح کے پراجیکٹس پر کام کرتے ہیں۔

پلاننگ سے لے کر ڈویلپمنٹ، ڈیزائن، ٹیسٹنگ، ڈیپلائمنٹ اور بعد ازاں سپورٹ اور ایرر فکسنگ تک، پورا پروسس ایک واضح اور ذمہ دار فریم ورک کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک عام “اے آئی سے بنے پراجیکٹ” اور ایک پروفیشنل سافٹ ویئر کے درمیان ہوتا ہے۔

مزید معلومات اور مکمل تفصیلات کے لئے ابھی ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں۔

Softerize.Online

اگر آپ واٹس ایپ پر رابطہ کرناچاہیں اور اپنے آئیڈیا زپر کھل کر بات کرنا چاہتے ہوں

WhatsApp # +92-345-0345581

اپنے کاروبار کی نوعیت، ایپ کی ضروریات، یا سافٹ ویئر کا مکمل آئیڈیا شیئر کریں—ہم آپ کو واضح اور تفصیلی مشورہ کے لئے مفت میں سیشن دیں گے۔

آپکے بزنس کو ایک ویب سائٹ کی ضرورت ہے:3 بڑی وجوہات

آپکے بزنس کو ایک ویب سائٹ کی ضرورت ہے:3 بڑی وجوہات پاکستان میں ٹیکنالوجی سے دوری ایک ایسا مسئلہ بن چکاہے جو خاموشی سے ہماری معیشت اور مجموعی ترقی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ آج بھی ملک میں بے شمار ایسے کاروباری افراد موجود ہیں جن کے پاس بجٹ بھی ہے اور وسائل بھی ہیں مگر اس...

Why AI Alone Breaks: 4 Critical Side Effects That Prove Human Developers Still Matter

Why AI Tools Cannot Replace Human Developer and Web Designers In today’s digital era, it is completely natural to ask an important question: when artificial intelligence has become so fast, accessible, and affordable—especially with tools like ChatGPT—why should...

اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا تعارف اور اے آئی کے 5 خطرناک فراڈ

اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا تعارف اے آئی یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس جسے اردو میں مصنوعی ذہانت کہا جاتا ہے، دراصل جدید ٹیکنالوجی کی وہ شکل ہے جس کے ذریعے کمپیوٹر اور مشینیں انسانی ذہانت کی نقل کرتے ہوئے فیصلے کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کیا ہے؟ اس سوال کا سادہ جواب...

Softerize Pakistan Mein Website – Online Store Ya Custom Software Kese Banwayen? 7 Best Packages

Pakistan Mein Website, Online Store Ya Custom Software Kese Banwayen? Softerize 7 Packages Softerize.online Pakistan ki aik professional website design, ecommerce development aur custom software solutions provide karne wali company hai jo Specially Pakistani...

4 Powerful Android App Development Packages in Pakistan (Cost, Features & Best Use)

4 Powerful Android App Development Packages in Pakistan (Cost, Features & Best Use) When people in Pakistan search for android app development pakistan, many of them are not looking for a complex or expensive solution. In reality, a very large number of users,...